کج ادائی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بے مروتی، بے وفائی، بدخلقی، بے رخی۔ "کسی فرد واحد نے بھی بجلی کی کج ادائی کا نوٹس نہیں لیا۔"      ( ١٩٨٤ء، قلمرو، ١٠٤ ) ٢ - دشمنی، عداوت، برائی، بدی۔ "ارسلان ساخیر خواہ اور اس سے یہ کج ادائی۔"      ( ١٩٠٧ء، سفید خون، ٢٢ ) ٣ - [ مجازا ]  بانکپن۔  تو نیّرِ آسمان تقدیس تو گوہر درج کج ادائی      ( ١٨٨٦ء، دیوان سخن، ٢٦٤ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'کج' کے بعد فارسی اسم 'ادا' کے آخر پر 'الف' ہونے کی وجہ سے ہمزہ زائد لگا کر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے مروتی، بے وفائی، بدخلقی، بے رخی۔ "کسی فرد واحد نے بھی بجلی کی کج ادائی کا نوٹس نہیں لیا۔"      ( ١٩٨٤ء، قلمرو، ١٠٤ ) ٢ - دشمنی، عداوت، برائی، بدی۔ "ارسلان ساخیر خواہ اور اس سے یہ کج ادائی۔"      ( ١٩٠٧ء، سفید خون، ٢٢ )

جنس: مؤنث